ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / منڈگوڈ: یوکرین سے لوٹی طالبہ  سنیہا نے کہا بھارت کی تعلیمی پالیسی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے

منڈگوڈ: یوکرین سے لوٹی طالبہ  سنیہا نے کہا بھارت کی تعلیمی پالیسی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے

Sun, 06 Mar 2022 20:59:17    S.O. News Service

منڈگوڈ :6؍ مارچ  (ایس اؤ نیوز)یوکرین کے شہر کھارکیو میں ایم بی بی ایس کے چوتھے سال میں زیر تعلیم شہر کی کے ایچ بی کالونی کی مکین سنیہا ہوسمنی سنیچر منڈگوڈ اپنے گھر لوٹ آئیں۔

سنیہا جمعہ کی صبح دہلی کے اندراگاندھی انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر اتریں ۔ اور وہیں دہلی میں کرناٹک بھون میں قیام کیا۔ شام ہوائی جہاز سے بنگلورو کے لئے نکلی اور رات بس سے ہوتے ہوئے سنیچر کی صبح منڈگوڈ پہنچیں ۔ ہوائی اڈے پر سنیہا کے والدین ایس پکریپا اور گنگا نے اپنی بیٹی کا استقبال کیا۔ سنیہا کے ساتھ کرناٹک کے کل 20طلبا یوکرین سے بنگلورو پہنچے ہیں۔

سنیہا نے کیا کہا:کرناٹک میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل نہیں کرسکتے، کروڑوں روپیہ خرچ کرنا پڑتاہے،غریب لوگ اتنی رقم کہاں سے لائیں گے؟ جولوگ زیادہ فیس ادا نہیں کرسکتے اور تعلیم سے محروم ہوتےہیں وہی بچے تعلیم کے لئے یوکرین جاتے ہیں۔ یہاں ہمیں سیٹ نہیں ملی اسی لئے وہاں گئے تھے۔ بھارت میں جاری مہنگی تعلیمی پالیسی میں تبدیلی ہونی چاہئے۔ غریب بچے بھی اس ملک میں تعلیم حاصل کرسکیں ایسا تعلیمی نظام بنانےکی سنیہا نے مانگ کی۔

سنیہا نےکہاکہ یوکرین کی سرحد پار کرنے کے لئے بہت تکلیف، پریشانی اور جدوجہد کرنی پڑی۔ ٹرین کے ذریعے پورا دن سفر کئے۔ پھر وہاں سے 20طلبا ایک سواری کے ذریعے 100کلومیٹر کاسفر طئے کیا۔ برف باری اور مائنس ڈگری سلسیس میں انتظار کرتے  کھڑے رہے۔ مائگریشن آفیسرس ہر چیز کی جانچ کرنے کےآگے بھیجنے کےلئے گھنٹوں وقت لیا۔ پولینڈ کی سرحد پہنچنے کے بعد بھارت کے سفارت خانے والوں نے بہترانتظام کیاتھا۔ ہوٹل جانے کے لئے سواری ، بہتر کھانا، ناشتہ سبھی کچھ دیا۔ وہاں سے بذریعہ ہوائی جہاز دہلی پہنچایا ۔ یہاں پہنچنے کے بعد بھی ہمارےلئے بہتر انتظام تھا۔


Share: